الامارات میں ڈرائیونگ سکول سے ہی سیکھنی پڑتی ھے اپنی کار پر ڈرائیونگ نہیں سیکھ سکتے اگر پکڑے گئے تو ملک بدر۔ الامارات میں ڈرائیونگ پر میڈیکل کے بعد روڈ سائن ٹیسٹ ہوتا ھے اس کے بعد مزید تین ٹیسٹ ہیں۔
1- سائیڈ پارکنگ
2- ریورس پارکنگ
3- بریج پارکنگ
اگر تو یہ ایک دن میں پاس کر لیں تو بہتر ورنہ فیل ہونے پر دو سے تین ماہ کی دوبارہ کی تاریخ ملتی ھے۔ ان تین ٹیسٹوں میں شرطہ/ پولیس کسی بھی قسم کی دھاندلی نہیں کر سکتی، جب یہ تینوں پاس ہو جائیں تو پھر روڈ ٹیسٹ شروع ہو جاتا ھے اور اس پر ان کا معیار بہت برا ھے جو دنیا میں کہیں بھی نہیں۔
روڈ ٹیسٹ کے دن ٹیسٹ سینٹر کے باہر ایک ٹیکسی کار اور اس کے پیچھے ایک کوسٹر لگائی جاتی ھے۔ نام بولے جاتے ہیں اور کوسٹر بھر لی جاتی ھے پھر ایک بندہ ٹیکسی کار میں بیٹھتا ھے اور اس کے ساتھ ایک شرطہ/ سپاہی اور دوسرا شرطہ/ سپاہی پیچھے کی سیٹ پر بیٹھتا ھے۔
ہر صبح 10 بجے سے اسی طرح کی لاتعداد ٹیکسی کار بمعہ کوسٹر وہاں سے نکلتی ہیں اور 1 بجے تک سب فارغ کر دئے جاتے ہیں۔
3 سال تک پاس ہونے کا کوئی چانس نہیں اور جنہیں اتنے سال ہو گئے ہوں ان کے لئے سپیشل انتظام موجود ہوتا ھے وہ یہ ھے کہ چند کار میں ضابط/ پولیس آفیسر ٹیسٹ لیتے ہیں اور پاس کرنے کا رائٹ صرف ان کے پاس ھے اور یہ تھوڑی سی کار چلواتے ہیں اور جب یہ ہوں تو کار کا ٹیسٹ اچھے طریقہ سے دینا چاہئے۔ ورنہ شرطہ پولیس کے ساتھ ٹیسٹ کا طریقہ کار یہ ھے کہ نام پوچھنے پر کار سے باہر نکال دیتے ہیں اور فیل کی پرچی ہاتھ میں تھما دیتے ہیں یا ایک سگنل/ راؤنڈ اباؤٹ سے شروع ہوتے ہیں اور دوسرے سگنل/ راؤنڈ اباؤٹ سے پہلے اتار دیتے ہیں جس کے لئے صرف 3 منٹ ہی ڈرائیونگ ٹیسٹ ہوتا ھے اور فیل کی پرچی ہاتھ میں اور اس میں ایسی غلطیاں لکھی ہوتی ہیں جو ٹیسٹ کا حصہ بھی نہیں تھیں روڈ ٹیسٹ کے دوران ضابط نے اگر پاس کرنا ہو تو وہ "گیئر ایکس" بھی کرواتا ھے وہ درست ہو گیا تو سمجھ لیں پاس ھے۔ اس پر اگر کوئی نئی اپڈیٹ ہو تو دھاگہ ختم ہونے کے بعد کوئی بھی اس پر معلومات فراہم کر سکتا ھے۔
انگلینڈ میں پاکستانی لائسنس کے ساتھ انٹرنیشنل لائسنس ضرور لائیں اس کا یہاں کار چلا سکتے ہیں مگر یہاں پر لائسنس انشورڈ کرنا پڑتا ھے۔
یہاں اپنی کار پر بھی ڈرائیونگ سیکھ سکتے ہیں کسی کو ساتھ بٹھا کر کوئی ممانعت نہیں۔ یہاں ٹیسٹ پولیس والے نہیں لیتے بلکہ ایجنسی کے بندے ہوتے ہیں عام لباس میں۔ ورنہ پولیس والا ساتھ ہو تو بندہ ویسے ہی ڈرا رہتا ھے۔
اس کے بعد انگلینڈ کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے لرنر لائسنس جب مل جائے تو اس کے بعد یہاں پر پہلا ٹیسٹ تھیوڑی کا ہوتا ھے۔
تھیوڑی ٹیسٹ کمپیوٹر پر ہوتا ھے اور اس کے لئے ہر زبان میں ٹیسٹ دے سکتے ہیں جو انہوں نے بہت اہم سہولت رکھی ہوئی ھے ہر ملک کے باشندوں کے لئے جنہیں انگلش نہیں آتی۔
تھیوڑی ٹیسٹ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ھے ایک سوال جواب اور دوسرا ہیزرڈ پریسپشن۔
تھیوڑی ٹیسٹ کے پہلے حصہ میں 50 سال ہوتے ہیں اور پاس ہونے کے لئے 43 سوالوں کے جوابات درست ہونے ضروری ہیں۔
دوسرا حصہ ہیزرڈ پریسپشن اس میں چند سیکنڈوں کے 14 کلپس دکھائے جاتے ہیں جس میں جہاں پر خطرہ ہو اسے موس سے کلک کرنا ھے اس پر بھی نمبر ہوتے ہیں ایک کلپ میں ایک ہیزرڈ کے 5 نمبرز اور ایک کلپ میں دو ہیزرڈ ہوتے ہیں اس کے 10 نمبرز ، ایک کلپ میں کتنے ہیزرڈ ہوتے ہیں اور کونسے ہیزرڈ میں پوائنٹس ہیں کوئی پتہ نہیں اس لئے اسے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ھے، ٹوٹل نمبر 75 اور پاس ہونے کے لئے 44 نمبر چاہئیں۔
یہ پاس ہونے کے بعد اگلا مرحلہ روڈ ٹیسٹ کا ہوتا ھے اور روڈ ٹیسٹ 35 سے 45 منٹ کا ہوتا ھے اور اس کے لئے ایک کار، ایک ٹرینی ڈرائیور اور ٹیسٹ لینے والا بھی ایک ہی ایجنسی کا بندہ ہوتا ھے۔ کچھ بھی ہو ٹیسٹ پورے وقت تک لیا جاتا ھے بھلے بیچ میں سیریئس یا ڈینجر جتنی بھی غلطیاں ہوں۔
اس 45 منٹ کے ٹیسٹ کے درمیان ہی 3 سپیشل مینوئر میں سے کوئی بھی دو مینوئر کروائے جاتے ہیں، جیسے
1- سائیڈ پارکنگ،
2- ریورس پارکنگ اور
3-تھری پوائنٹس ٹرن،
4- اور مزید ضرورت پڑنے پر امرجینسی بریک۔
روڈ ٹیسٹ پاس ہونے کے لئے 14 مائنر غلطیاں معاف ہیں اس لئے ڈینجر اور سیرئس ایک بھی ہونے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اب کل ہم کلپس کی مدد سے ڈرائیونگ سیکھانے کی کوشش کریں گے اگر آپ اسے غور سے دیکھیں گے تو یقیناً آپ اپنی ڈرائیونگ بھی درست کر سکتے ہیں جو معمول کے مطابق کار ڈرائیو کرتے ہیں اور وقت آنے پر ٹیسٹ کیسے ہوتا ھے اس کی ویڈیو بھی پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت۔
جاری ھے
1- سائیڈ پارکنگ
2- ریورس پارکنگ
3- بریج پارکنگ
اگر تو یہ ایک دن میں پاس کر لیں تو بہتر ورنہ فیل ہونے پر دو سے تین ماہ کی دوبارہ کی تاریخ ملتی ھے۔ ان تین ٹیسٹوں میں شرطہ/ پولیس کسی بھی قسم کی دھاندلی نہیں کر سکتی، جب یہ تینوں پاس ہو جائیں تو پھر روڈ ٹیسٹ شروع ہو جاتا ھے اور اس پر ان کا معیار بہت برا ھے جو دنیا میں کہیں بھی نہیں۔
روڈ ٹیسٹ کے دن ٹیسٹ سینٹر کے باہر ایک ٹیکسی کار اور اس کے پیچھے ایک کوسٹر لگائی جاتی ھے۔ نام بولے جاتے ہیں اور کوسٹر بھر لی جاتی ھے پھر ایک بندہ ٹیکسی کار میں بیٹھتا ھے اور اس کے ساتھ ایک شرطہ/ سپاہی اور دوسرا شرطہ/ سپاہی پیچھے کی سیٹ پر بیٹھتا ھے۔
ہر صبح 10 بجے سے اسی طرح کی لاتعداد ٹیکسی کار بمعہ کوسٹر وہاں سے نکلتی ہیں اور 1 بجے تک سب فارغ کر دئے جاتے ہیں۔
3 سال تک پاس ہونے کا کوئی چانس نہیں اور جنہیں اتنے سال ہو گئے ہوں ان کے لئے سپیشل انتظام موجود ہوتا ھے وہ یہ ھے کہ چند کار میں ضابط/ پولیس آفیسر ٹیسٹ لیتے ہیں اور پاس کرنے کا رائٹ صرف ان کے پاس ھے اور یہ تھوڑی سی کار چلواتے ہیں اور جب یہ ہوں تو کار کا ٹیسٹ اچھے طریقہ سے دینا چاہئے۔ ورنہ شرطہ پولیس کے ساتھ ٹیسٹ کا طریقہ کار یہ ھے کہ نام پوچھنے پر کار سے باہر نکال دیتے ہیں اور فیل کی پرچی ہاتھ میں تھما دیتے ہیں یا ایک سگنل/ راؤنڈ اباؤٹ سے شروع ہوتے ہیں اور دوسرے سگنل/ راؤنڈ اباؤٹ سے پہلے اتار دیتے ہیں جس کے لئے صرف 3 منٹ ہی ڈرائیونگ ٹیسٹ ہوتا ھے اور فیل کی پرچی ہاتھ میں اور اس میں ایسی غلطیاں لکھی ہوتی ہیں جو ٹیسٹ کا حصہ بھی نہیں تھیں روڈ ٹیسٹ کے دوران ضابط نے اگر پاس کرنا ہو تو وہ "گیئر ایکس" بھی کرواتا ھے وہ درست ہو گیا تو سمجھ لیں پاس ھے۔ اس پر اگر کوئی نئی اپڈیٹ ہو تو دھاگہ ختم ہونے کے بعد کوئی بھی اس پر معلومات فراہم کر سکتا ھے۔
انگلینڈ میں پاکستانی لائسنس کے ساتھ انٹرنیشنل لائسنس ضرور لائیں اس کا یہاں کار چلا سکتے ہیں مگر یہاں پر لائسنس انشورڈ کرنا پڑتا ھے۔
یہاں اپنی کار پر بھی ڈرائیونگ سیکھ سکتے ہیں کسی کو ساتھ بٹھا کر کوئی ممانعت نہیں۔ یہاں ٹیسٹ پولیس والے نہیں لیتے بلکہ ایجنسی کے بندے ہوتے ہیں عام لباس میں۔ ورنہ پولیس والا ساتھ ہو تو بندہ ویسے ہی ڈرا رہتا ھے۔
اس کے بعد انگلینڈ کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے لرنر لائسنس جب مل جائے تو اس کے بعد یہاں پر پہلا ٹیسٹ تھیوڑی کا ہوتا ھے۔
تھیوڑی ٹیسٹ کمپیوٹر پر ہوتا ھے اور اس کے لئے ہر زبان میں ٹیسٹ دے سکتے ہیں جو انہوں نے بہت اہم سہولت رکھی ہوئی ھے ہر ملک کے باشندوں کے لئے جنہیں انگلش نہیں آتی۔
تھیوڑی ٹیسٹ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ھے ایک سوال جواب اور دوسرا ہیزرڈ پریسپشن۔
تھیوڑی ٹیسٹ کے پہلے حصہ میں 50 سال ہوتے ہیں اور پاس ہونے کے لئے 43 سوالوں کے جوابات درست ہونے ضروری ہیں۔
دوسرا حصہ ہیزرڈ پریسپشن اس میں چند سیکنڈوں کے 14 کلپس دکھائے جاتے ہیں جس میں جہاں پر خطرہ ہو اسے موس سے کلک کرنا ھے اس پر بھی نمبر ہوتے ہیں ایک کلپ میں ایک ہیزرڈ کے 5 نمبرز اور ایک کلپ میں دو ہیزرڈ ہوتے ہیں اس کے 10 نمبرز ، ایک کلپ میں کتنے ہیزرڈ ہوتے ہیں اور کونسے ہیزرڈ میں پوائنٹس ہیں کوئی پتہ نہیں اس لئے اسے سمجھنا بہت ضروری ہوتا ھے، ٹوٹل نمبر 75 اور پاس ہونے کے لئے 44 نمبر چاہئیں۔
یہ پاس ہونے کے بعد اگلا مرحلہ روڈ ٹیسٹ کا ہوتا ھے اور روڈ ٹیسٹ 35 سے 45 منٹ کا ہوتا ھے اور اس کے لئے ایک کار، ایک ٹرینی ڈرائیور اور ٹیسٹ لینے والا بھی ایک ہی ایجنسی کا بندہ ہوتا ھے۔ کچھ بھی ہو ٹیسٹ پورے وقت تک لیا جاتا ھے بھلے بیچ میں سیریئس یا ڈینجر جتنی بھی غلطیاں ہوں۔
اس 45 منٹ کے ٹیسٹ کے درمیان ہی 3 سپیشل مینوئر میں سے کوئی بھی دو مینوئر کروائے جاتے ہیں، جیسے
1- سائیڈ پارکنگ،
2- ریورس پارکنگ اور
3-تھری پوائنٹس ٹرن،
4- اور مزید ضرورت پڑنے پر امرجینسی بریک۔
روڈ ٹیسٹ پاس ہونے کے لئے 14 مائنر غلطیاں معاف ہیں اس لئے ڈینجر اور سیرئس ایک بھی ہونے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اب کل ہم کلپس کی مدد سے ڈرائیونگ سیکھانے کی کوشش کریں گے اگر آپ اسے غور سے دیکھیں گے تو یقیناً آپ اپنی ڈرائیونگ بھی درست کر سکتے ہیں جو معمول کے مطابق کار ڈرائیو کرتے ہیں اور وقت آنے پر ٹیسٹ کیسے ہوتا ھے اس کی ویڈیو بھی پیش کریں گے تب تک کے لئے اجازت۔
جاری ھے